وہ ہنستا رہا،ہمیں یادیں دے گیا

وہ ہنستا رہا،ہمیں یادیں دے گیا، #ہنس مکھ شخصیت #زندہ دل انسان #یادگارشخصیت #مسکراہٹوں کے_سفیر #کامونکی
تحریر(رانا گل نواز سے)کچھ لوگ اپنے پیچھے ایسی یادیں چھوڑ جاتے ہیں جنہیں یاد کرکے ہنسی بھی آتی ہے اور آنکھ بھی نم ہوجاتی ہے وہ بھی ایسی ہی ہنس مکھ شخصیت تھاہر وقت ہنستے رہنا اس کا وطیرہ تھاکسی شرارت پرپکڑا بھی جاتا تو شرمندہ ہونے کے بجائے مسکرا دیتا ہر ملنے والے سے پوچھتا میرے لائق کوئی خدمت ہے تو بتائیں دوست جانتے تھے کہ اس سوال کے بعد کوئی نیا قصہ بھی بن سکتا ہے،ایک مرتبہ ایک اے ایس آئی صاحب کوگھر کھانے کی دعوت دی،چھٹی والے دن اس کو خبر تک نہ ہونے دی اورتھانے سے گھر تک راستے کی دکانوں سے کھانے پینے کا سامان انہی کے نام پرادھار لیا ،قصائی کو بتایا (صاحب )کا ہے اچھا گوشت بنوالیا،گھر آنے پر انہی کی جیب سے تندورسے روٹیاں لی اور دعوت کا خوب اہتمام کیا،خود مبھی مزے سے کھانا کھایا اورمہمان کوبھی کھلایا،اے ایس آئی صاحب کو کھانے کے وقت معلوم ہی نہ تھا کہ دعوت کا پورا خرچ انہی کے کھاتے میں لکھا جاچکا ہے،دو تین دن بعدجب اے ایس آئی صاحب وہاں (بازار)سے گزرے تو دکانداروں کے تقاضوں سے حقیقت کھلی،یوں جس دعوت میں وہ مہمان تھے،اس کی رقم بھی انہیں ہی ادا کرنا پڑی۔ایک دوست نے اس سے دو دن کےلیے پچاس ہزار روپے ادھار مانگے،پہلے اسی دوست سے پان کھایا،بوتل پی خاطر تواضع کروائی اور رقم ادھار دینے کے لیے اگلی صبح کا وقت دے دیا،مگر ملاقات تین دن بعدکی جب دوست غصے سے لال پیلا ہوا تو مسکراتے ہوئے بولاآپ نے پچاس ہزار دو دن کے لیے ہی تو مانگے تھے،اب تو تین دن ہوگئے ہیں آپ شکریہ کہنے کے بجائے گرم ہورہے ہیں یہ انکی نرالی منطق سن کرسب دوستوں کی ہنسی نکل گئی،سادھوکی اسٹیشن کے قریب جھگیوں سے سازندوں کواپنی باتوں میں لگاکرخوب خاطر تواضع کروائی گھر لے آیا اورجرمن باجے(ساز) کی جگہ اینٹوں سے بھری گٹھڑی انہیں دی وہ اسے باجا(ساز) سمجھ کراپنے گھر لے گئےگٹھڑی کھولی تو اندر اینٹیں تھیں،وہ سٹپٹا اٹھے اورادھر دوستوں کےلیے یہ ایک نیا قصہ تیارہوگیا،ایک دفعہ ایک مرحوم بزرگ شیخ صاحب کولاہورسے لفٹ دےکر اپنے ساتھ کامونکی لایاپھران کے امیر بیٹوں سے چائے،بوتل اورکھانے کی خاطر تواضع کروانے کے بعد بھی جہاں ملتااپنے احسان کی داد وصول کرتارہااورکہتاتھا کہ رات کےپچھلے وقت اکیلے آتے تو کتنی پریشانی ہوتی،ٹیکسی پر آتے کتنی پریشانی ہوتی میرا احسان ابھی باقی ہےاس کا انداز ایسا تھا کہ خاطر تواضع کرنے والے بھی اس کی باتیں سن کرہنس پڑتےلیکن اس کی باتیں صرف ہنسانے تک محدود نہیں تھیں،مرحوم نعت خوانی کے علاوہ شہرکے سماجی مسائل مقامی نمائندوں،ایم پی اے اور ایم این اے تک پہنچانے اوران سے کام نکلوانے کا ہنربھی رکھتا تھاسنجیدہ مسئلے کوبھی ایسے دلچسپ انداز میں پیش کرتا کہ سننے والا متوجہ ہوئے بغیر نہ رہتا،ایک دفعہ پانی کی ٹینکی کے پائپ بند ہوگئے۔تو بزرگوں کی محفل میں حقوں کا ذکر ایسے بیان کیا کہ انہوں نے مقامی نمائندوں کے سامنے بات ہی نرالے انداز میں رکھی کہ بوڑھوں کے حقے ختم کروا کر مفت پانی والی ٹینکی کے پائپوں سے ہی انہیں حقہ پینے کا بندوبست کرکے ریلیف دے دیا ہے اس مزاحیہ انداز میں پانی کی بندش کا مسئلہ اٹھایاکہ بالآخر ٹینکی چالو کروا دی گئی یہی اس کی خاص بات تھی، ہنستے ہنساتے لوگوں کا کام بھی کروا جاتاتھا۔زندگی کے بارے میں اس کا اپنا فلسفہ تھا،کہا کرتا تھےآدھے سے زیادہ پل گئے،باقی بھی پل ہی جائیں گے،اس مختصر جملے میں گزرتے دنوں کا تجربہ بھی تھا اور آنے والے دنوں کی امید بھی،آج وہ ہم میں نہیں رہا،اس کے قصے سنتے ہوئے ہونٹ مسکراتے ہیں،پھر اس کی کمی دل کو اداس کردیتی ہےبڑی محفلوں میں اس کی باتیں ہوتی رہیں گی،مگر اس کے اپنے انداز میں وہ بات کون کہے گا؟ کون مسکراتے ہوئے آ کر پوچھے گا میرے لائق کوئی خدمت ہے تو بتائیں،اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں جگہ عطافرمائے،آمین

جواب دیں