200 سے زائد بچوں کے والدین کا استاد کی بحالی کا مطالبہ،پہلے انکوائری افسر کی دستبرداری کے بعد دوسرے افسر کی تقرری،شفاف تحقیقات کا مطالبہ

کامونکی (نمائندہ خصوصی)رانا کالونی سادھوکی کے سرکاری پرائمری سکول کی خطرناک عمارت کی نشاندہی کرنے والے استاد گل زادہ خان کی معطلی اور ان کے خلاف جاری محکمانہ کارروائی پر ڈی سی گوجرانوالہ اور محکمہ تعلیم کے کردار پر سوالات اٹھ گئے ہیں استاد نے 21 اکتوبر کو سکول کی خستہ حالی اور بچوں کی جانوں کو لاحق خطرات کی نشاندہی کی تھی،جس کے بعد انہیں مبینہ طور پر ڈیوٹی اوقات میں دوسرے سکول جا کر غلط سوشل میڈیا پوسٹ کرنے کے الزام میں معطل کردیا گیا، جبکہ استاد کا مؤقف ہے کہ وہ اس روز طبی معائنے کے لیے رخصت پر تھے۔ڈی ای او ایلیمنٹری سید سبطین شاہ نے خود سکول کی عمارت خطرناک قرار دے کر 200 سے زائد بچوں کو محفوظ کرائے کی عمارت میں منتقل کروا دیا,پنجاب ٹیچرز یونین کے مطابق پہلے انکوائری افسر ڈاکٹر شفقت کی دستبرداری کے بعد دوسرے افسر کو تحقیقات سونپی گئی ہیں، ذرائع نے انکوائری پر اثرانداز ہونے اور استاد کی برطرفی کے لیے کارروائی آگے بڑھانے کے الزامات عائدکیے ہیں، تاہم ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی،والدین اور ٹیچرز یونین نے استاد کی فوری بحالی اور غیرجانبدارانہ انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ جب سکول کی عمارت واقعی خطرناک ثابت ہوئی تو بچوں کی جانیں بچانے کے لیے آواز اٹھانے والا استادسزا کا مستحق کیوں؟ والدین نے مطالبات تسلیم نہ ہونے پر احتجاج کا عندیہ دیا ہے۔

Response

  1. گل زادہ خان Avatar

    شکریہ رانا گل نواز خاں صاحب

    Liked by 1 person

جواب دیں